7,752

آپ کی گفتگو آپ کی شخصیت کی آئینہ دار

✍️سید لبید غزنوی
23, جون 2021

خالق کائنات نے انسان کو جب حسین و جمیل پیکر میں ڈھالا تو مختلف اعضاء کو اس کے وجود میں ان کی بہترین جگہ رکھ کر اس کی تزئین و آرائش اور خوبصورتی کو لازوال اور لافانی بنا دیا ، انہی اعضاء میں سے ایک ایسا عضو جو انتہائی نرم و نازک تھا اسے سخت ترین جبڑوں کے درمیان رکھا اور پھر اسے قوت گویائی عطا فرمائی ، اس نرم و نازک عضو کو زبان کے نام سے موسوم کیا گیا۔

پھر یہ زبان چپڑ چپڑ بولنے لگی ، کبھی زخموں پہ مرہم تو کبھی جسموں اور روحوں پہ زخم لگانے لگی ، کہنے والے کہتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ۔۔۔! زبان سے لگایا جانے والا گھاؤ تلوار سے لگائے گئے گھاؤ سے زیادہ سخت ہوتا ہے ، تلوار کا گھاؤ تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مندمل ہو جاتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اس گھاؤ کا نشان بھی مٹ جاتا ہے ، مگر زبان کا گھاؤ زندگی بھر سامنے والے فرد کو محسوس ہوتا رہتا ہے اور مسلسل کچوکے لگا لگا کر اس کی روح کو بے چین و بے کل رکھتا ہے۔

جی ہاں یہی وہ زبان ہے جس سے نکلنے والے چند میٹھے اور شیریں الفاظ انسان کو کسی محفل کی رونق اور جان بنا دیتے ہیں ، اور یہی وہ زبان ہے کہ اس سے نکلنے والے چند کڑوے ، کسیلے الفاظ اسے سامنے والوں کی نظروں میں گرانے کو کافی ہو جاتے ہیں ، آپ اپنے چاروں طرف نظر دوڑائیں تو اس حقیقت سے بخوبی واقف ہو جائیں گے کہ۔۔! انسان کی گفتگو اس کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہے وہ زبان کی بدولت ہی نہ صرف بہت سارے لوگوں کے دلوں میں گھر بنا لیتا ہے بلکہ اس کی باتیں سامنے والے کے دل پر بھی اثر کرتی ہیں ، لیکن بد اخلاق انسان اپنی کڑوی باتوں اور بد زبانی کی عادت کی وجہ سے دوسرے لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے اور اس کی بات میں بھی کسی قسم کا کوئی اثر نہیں رہتا۔

دین اسلام نے بھی حسن گفتگو ، نرم خوئی اور خوش اخلاقی جیسی صفات کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر قول و عمل اللہ تعالی کی منشاء و مرضی کے مطابق تھا ، آپ بہترین اخلاق کے مالک تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو انتہائی خوبصورت اور لہجہ دھیما اور نرم ہوتا تھا اور انداز بیاں ایسا تھا کہ مکہ کا ہر فرد متاثر تھا ، یہی تو وہ انداز بیاں تھا جس نے کفار مکہ کے دلوں کو مسخر کیا ، انہوں نے آپ کو صادق و امین قرار دیا ، سخت سے سخت دشمن بھی آپ کی اس خوبی سے دل ہار جاتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی زبان اطہر مقدس و مبارک سے کسی کے لیے سخت الفاظ استعمال نہیں کئے اور نہ ہی کبھی کسی کے لیے بد دعا کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے کہ دشمنوں نے آپ کو بہت تکلیف پہنچائی مگر پھر بھی آپ کے پایہ استقلال میں سرموں فرق نہ آیا اور نہ ہی آپ نے خوش اخلاقی کا دامن چھوڑا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے ” مومن دوسروں سے مانوس ہو جاتا ہے اور دوسرے اس مانوس ہو جاتے ہیں وہ دوسروں سے محبت کرتا ہے اور خود بھی محبت کیا جاتا ہے اور جو ایسا نہ کرے تو اس میں کوئی خیر نہیں۔

فرمایا۔۔! لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے ولا ہو۔” خوش اخلاقی ، نرم خوئی اور حسن گفتگو کو مومن کی بہترین صفات قرار دیا گیا ہے اور اللہ رب العزت نے مومنین کو بہترین اخلاق کے ساتھ اپنی ذات کو سنوارنے کا حکم دیا ہے ، جب لوگوں کو خدا کے دین کے جانب راغب کرنے کے لیے دعوت و تبلیغ کا حکم جاری کیا گیا تو ساتھ یہ بھی فرمایا کہ حسن اخلاق اور نرم خوئی سے کام لینا ، سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو ، حکمت و عمدہ نصیحت کے ساتھ۔” اس فرمان گرامی میں لوگوں کو ہدایت کی جانب بلانے اور پراثر و پرحکمت اور دل موہ لینے والے انداز بیاں اور گفتگو کے احسن طریقوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو انہی خوبیوں سے اللہ تعالی نے مالا مال کیا تھا جس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں اسلام کی روشنی پھیلائی۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالی اپنے نبی کی انہی خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے نرم دل واقع ہوئے ہو لیکن اگر تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے۔” جب میں نے اس آیت کریمہ کا ترجمہ پڑھا تو سوچوں کی گہرائیوں میں کھو گیا کہ دین کی طرف بلانے کے لیے ہی نہیں بلکہ کسی کی بھی تعلیم و تربیت کے لیے ان خوبیوں سے متصف ہونا اور ان صلاحیتوں کا حاصل کرنا کتنا ضروری ہے ، اور میں نے بارہا اس چیز کا مشاہدہ بھی کیا ہے کہ۔۔۔! سخت مزاج ، تندخو اور طنز کرنے والے اساتذہ سے بچے بیزار ہو جاتے ہیں اور ایسے اساتذہ کے بارے میں بچوں کی رائے بھی اچھی نہیں رہتی ، بالکل اسی طرح اگر والدین اپنی اولادوں کی اچھی دینی و دنیاوی تعلیم کی خواہش رکھتے ہیں تو ان کے لئے بھی ان صفات سے آراستہ و پیراستہ ہونا از حد ضروری ہے۔

ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ ایک دوست سے ملاقات کرنے کے لئے ان کے گھر جانا ہوا ، ہم خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ۔۔! کمرے میں ایک چھوٹا سا بچہ داخل ہوا ، بہت خوبصورت بہت پیارا بچہ تھا ، میں نے پاس بلا لیا نام پوچھا تو کہنے لگا میرا نام عکاشہ ہے ، میں کہا بیٹا تم کتنے پیارے ہو تو اس وقت میں حیران و ششدر رہ گیا جب بچے نے انتہائی رکھائی ، غصے اور نفرت سے جواب دیا ” میں پیارا نہیں ہوں میں بہت بدتمیز اور گندا بچہ ہوں۔” میں نے اسے سینے سے لگایا اور پیار کیا اور کہا نہیں بیٹا آپ تو بہت پیارے اور اچھے ہو ، تو اس بچے نے بالکل پہلے والے انداز میں کہا نہیں۔۔۔! دادی اماں ، بابا ، مما سبھی کہتے ہیں کہ میں بہت بدتمیز ہوں ، میں اچھا نہیں ہوں ، وہ ہمیشہ مجھے برا کہتے ہیں۔ قارئین کرام بچے کے ان جملوں سے اندازہ لگائیں کہ بڑوں کے چند غیر مہذب جملوں نے اس کے ننھے منے دل و دماغ کو کس بری طرح سے جکڑ لیا تھا۔

محترم قارئین کرام۔۔! ہماری زبان سے نکلنے والے چند الفاظ سامنے والے پر کاری ضرب لگانے کو کافی ہوتے ہیں ، آپ جب بھی گفتگو کریں تو سامنے فرد سے رشتے ، مرتبے ، عمر اور موقع محل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے گفتگو کریں ، اگر کبھی کہیں سامنے والے فرد میں کسی قسم کی کوئی غلطی موجود پائیں تو مدبرانہ و حکیمانہ انداز اختیار کریں اور حتی الامکان یہ کوشش کریں کہ اس کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی لوگوں کے سامنے تشہیر نہ ہو ، بحث و مباحثہ اور تکرار و طنزیہ گفتگو سے اجتناب کریں کیونکہ ایسا کرنا رشتوں اور تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتا ہے ، جھگڑے اور فساد سے پرہیز کریں اور یہ بات سمجھ لیں کہ۔۔! بہت سارے جھگڑوں اور فسادات کی وجہ ہماری زبان ہوتی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ۔۔! کئی مواقع پر کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زیادتی کی جس پر صحابہ کرام غصے میں آ جاتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی اختیار فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے : ” اللہ تعالی نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر وہ اتنا عطا کرتا ہے جتنا سختی پر عطا نہیں کرتا۔”

آپ کی گفتگو آپ کی شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے اس لیے جھوٹ بولنے سے اجتناب کریں کیونکہ جو لوگ جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں پھر ان کی سچی باتوں پر بھی لوگ اعتبار نہیں کرتے ، اسلام میں جھوٹ بولنے والے کے لیے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہے ، ابن ماجہ کی روایت ہے : ” جھوٹی گواہی دینے والے کے پاؤں قیامت کے دن اس وقت تک حرکت نہ کر سکیں گے جب تک اس پر جہنم کو واجب نہ کر دیا جائے گا۔” ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیشہ سچ بولو کہ سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف جانے والے راستے پر لی جاتی ہے اور بالآخر جنت میں داخل کروا دیتی ہے ، اور جھوٹ سے اجتناب کرو کیونکہ جھوٹ بولنا گناہ ہے اور گناہ انسان کو جہنم کے راستے کی طرف لے جاتا ہے اور بالآخر جہنم میں گرا دیتا ہے۔”

حسن گفتگو کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ۔۔۔! گفتگو کرتے ہوئے بات خوب ٹھہر ٹھہر کر اور آرام سے سوچ سمجھ کر کی جائے ، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوکر کلام کیا اس حال میں کہ اس کے منہ سے کف بہ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے کلام کرنا سیکھو ، منہ پھاڑ کر کلام کرنے سے بچو ، اس لئے کہ منہ پھاڑ کر بات کرنا شیطان کے منہ سے نکلنے والے جھاگ کی طرح ہے۔” گفتگو کے اسلوب اور محاسن میں ایک بات یہ بھی شامل ہے کہ بے کار اور فضول گفتگو سے پرہیز کیا جائے ، ترمذی شریف کی روایت ہے : ” آدمی کے اچھے اسلام میں سے ہے کہ وہ بیکار باتوں کا مشغلہ چھوڑ دے۔” اس کے چھوڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اگر آپ اپنے آس پاس دیکھیں تو سب سے زیادہ جھوٹ و غیبت جیسے گناہوں کا ارتکاب فضول باتوں میں ہوتا ہے ، انسان وقت بھی ضائع کرتا ہے اور اپنے نامہ اعمال میں گناہوں کا ذخیرہ بھی جمع کر لیتا ہے ، فضول گفتگو سب سے زیادہ خواتین کی مجالس و محافل میں ہوتی ہے ، جہاں کوئی دو چار خواتین اکٹھی ہوئیں بے کار اور فضول گفتگو غیبت ، طنز اور جھوٹ کا برملا اظہار کرتی ہیں ، ایسی یاوہ گوئیوں میں ایک تو وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور دوسرا معاشرتی برائیاں اور فسادات بھی زیادہ تر اسی وجہ سے ہوتے ہیں ، اللہ تعالی اس کام کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔

بعض لوگ انداز بیاں درست اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی صحیح بات بھی دوسروں تک پہنچانے سے قاصر رہتے ہیں وہ لوگ گلا پھاڑ کر اونچی آواز میں سختی اور جلد بازی میں اس طرح گفتگو کرتے ہیں کہ سامنے والے پر برا اثر پڑتا ہے اور اسے صحیح بات بھی ناگوار لگتی ہے اور یہ ایسے لوگوں کی بہت بڑی بدنصیبی ہے ، اگر وہ بردباری ، تحمل اور صبر کے ساتھ نرم لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر نرم لہجے میں گفتگو کریں تو نہ صرف لوگ خوش دلی سے سنیں گے بلکہ پسند کرنے کے بعد ان باتوں پر عمل بھی کریں گے۔

آپ کی گفتگو آپ کی شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے اس لیے چاہے کسی بڑے سے مخاطب ہو یا کسی چھوٹے سے عزت و تکریم کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور یقین مانیں آپ کے ایسا کرنے سے سامنے والا بھی آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ، حسن گفتگو کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ دوسروں کی گفتگو بھی تحمل سے سنی جائے ، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ، غلطیوں پر حکمت عملی کے ساتھ اور تدبر کے ساتھ اصلاح کا پہلو اختیار کیا جائے ، دوران گفتگو دوسروں کا بات کاٹ کر اپنی بات شروع کرنے والوں کو یا دوسروں کو ٹوکنے اور جھڑکیاں دینے والوں کو لوگ سخت ناپسند کرتے ہیں ، ویسے بھی دوسرے کی بات کاٹنا بداخلاقی و بدتہذیبی ہے ، ایسے لوگوں کو لوگ اپنی محفلوں میں شریک کرنا پسند نہیں کرتے ، محسن انسانیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ و تابعین عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقہ گفتگو اور آداب محفل کو مدنظر رکھ کر ہم اپنی گفتگو پر نظرثانی کرتے ہوئے اپنی گفت و شنید کی خامیاں ، غلطیاں اور کوتاہیاں دور کر کے اسے خوبصورت بنا سکتے ہیں ، اچھی گفتگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کی مصاحبت اختیار کی جائے اور اپنی اولادوں کو بھی اچھی گفتگو سکھانے کے لئے ان کی تعلیم و تربیت کے اسباب کی نگرانی اور اصلاح کی خاص ضرورت ہے تاکہ وہ بھی بہترین آداب گفتگو سے آشنا ہو کر معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔

✍️سید لبید غزنوی
23 جون 2021

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “آپ کی گفتگو آپ کی شخصیت کی آئینہ دار

اپنا تبصرہ بھیجیں