84

تاجر برادری، کاٹن فیکٹری مالکان اور جینرز یونین نے ٹیکس میں اضافہ کومسترد کر دیا۔

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) مرکزی انجمن تاجران، غلہ منڈی کی تاجر برادری، کاٹن فیکٹری مالکان اور جینرز یونین نے ٹیکس میں اضافہ کومسترد کر دیا ہے چیمبر آف کامرس کے سینیئر رہنما میاں امجد غوری اور مرکزی انجمن تاجران کے جنرل سیکرٹری ملک محمد ریاض خلجی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں بجٹ میں غیر معمولی ٹیکسوں کی بھرمار پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظالمانہ ٹیکس ٹیکسز کے باعث ”سلور ریشہ” بنانے والی کاٹن فیکٹری بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جب کہ گندم کی کم قیمت کے باعث کسان زندہ درگور ہو گیا ہے اور ائندہ اگر صورتحال یہی رہی تو کپاس کی فصل میں رہی سہی کسر نکل جائے گی۔ میاں امجد غوری نے مزید کہا کہ نئے ٹیکس کے نفاذ کے بعد بجلی کے ٹیرف بڑھنے اور آف سیزن تقریبا سات ماہ فیکٹریاں بند ہونے کی صورت میں تقریبا 10 لاکھ فکس ٹیکس دینا عملا ناممکن ہوگا۔

کاٹن بیلٹ خصوصا جنوبی پنجاب فیکٹری مالکان اور جینرز کا موقف ہے کہ پانی کے بحران کے سمیت نامسائد حالات کے سبب اس بوجھ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان تمام ظالمانہ ٹیکسز کا نشانہ کسان ہی بنے گا اور ٹیکس کی وجہ سے کاٹن کی قیمتیں متاثر ہوں گی حکومت کی ظالمانہ اور غیر منصفانہ کی وجہ سے کسان پہلے ہی زندہ درگور کے ہو چکا ہے انہوں نے مزید کہا کان جینرز کی ہڑتال اپنے مفاد کے لیے نہیں بلکہ ہم کسانوں کی آواز بن رہے ہیں تاکہ انہیں ان کی اجناس کی مناسب قیمتیں مل سکیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا اضافی بجلی ٹیرف اور ظالمانہ ٹیکسز کا فل فور خاتمہ کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں