2,040

مظلوم امت مسلمہ اور اقوام عالم، تنقیدی جائزہ

✍️تنزیلہ یوسف
27 جون 2021

رسول اکرمؐ کا فرمان ہے کہ:
”ایک وقت آئے گا جب اقوام عالم تم (مسلمانوں) پر یوں پل پڑیں گی جیسے بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں“۔ صحابہ نے عرض کیا:
”اے اللہ کے رسول! کیا یہ اس وجہ سے ہوگا کہ تب ہم تعداد میں کم ہوں گے؟“آپ ؐ نے فرمایا:
”نہیں تعداد میں اس وقت تم بہت زیادہ ہو گے، مگر تمہاری حیثیت خس و خاشاک کی سی ہوگی کہ جیسے خس و خاشاک سیلاب کی سطح پر (تیرتے ہیں)، اللہ تعالیٰ دشمنوں سے تمہارا رعب و دبدبہ ختم کرے گا اور تمہارے دلوں میں کھوکھلا پن (وہن) پیدا کر دے گا۔“ ایک سائل نے دریافت کیا:”اے اللہ کے رسول! یہ ’وہن‘ کیا ہے؟“ فرمایا:”دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔“

ہم دیکھتے ہیں آج دنیا میں اُمت مسلمہ کی یہی حالت ہے۔ امت مسلمہ اس وقت 57 ممالک پر مشتمل، دنیا میں ہر طرح کے وسائل و ذرائع سے مالامال ہے۔ وہ چاہے تیل کے کنویں ہوں یا سونے اور دیگر معدنیات کی کانیں، سائنس و ٹیکنالوجی ہو یا ایٹمی و نیوکلیائی ہتھیار۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود دنیا میں اس وقت اگر کوئی قوم مظلوم ومحکوم ہے تو وہ اُمت مسلمہ ہے۔ عثمانی خلافت کے چھن جانے کے بعد غیر اقوام نے اُمت مسلمہ کو تہہ تیغ کرنا شروع کر دیا۔ اُمت مسلمہ جو درحقیقت مظلوم امت ہے اس وقت دنیا میں ہر طرح سے غیروں اور اپنوں کے ہاتھوں پٹ رہی ہے۔ اُمت مسلمہ کو ایک سازش کے تحت قوموں، ملکوں، مسلکوں، جماعتوں اور گروہوں میں غیروں نے ایسے بانٹ دیا جیسے کہ یہ ایک اُمت نہیں۔ اُمت کو بانٹ کر ہم دیکھتے ہیں دنیا کی بڑی بڑی طاغوتی طاقتوں نے اُمت مسلمہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا۔ کہیں پر نام نہاد مسلمانوں میں سے ہی ایسے درندے تیار کیے گئے، جنہوں نے اُمت کا قتل عام ثواب جان کر کیا اور کہیں پہ ان طاغوتی طاقتوں نے براہ راست مسلمانوں کو چُن چُن کر مار ڈالا۔
دنیا کی ایک سپر طاقت جسے ہم امریکا کے نام سے جانتے ہیں، نے وپپنز آف ماس ڈسٹرکشن weapons of mass distraction کی تلاش میں عراق پر ہزاروں ٹن بارود گرا کر ظلم و بربریت کی داستان عظیم رقم کرڈالی۔ اس بربریت کا شکار چوں کہ مسلمان ہوئے اسی لیے امریکہ کے اس اقدام پر اسے دنیا میں کوئی بھی درانداز کہنے میں دل چسپی نہیں رکھتا۔ ہاں اگر اس ظلم و جور کا نشانہ غیر مسلم اقوام ہوتیں، تب اور طرح کا ردعمل دیکھنے کو ملتا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آج امت تعداد میں زیادہ تو ہے مگر ان میں   اجتماعیت کا فقدان ہے۔

 دنیا نے دیکھا کہ امریکا وہاں سے ایک سوئی بھی برامد نہیں کر سکا۔ اسی طرح ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اسی سپر پاور نے افغانستان پر بارود کی بارش کر کے افغانستان کے لاکھوں بچوں کو یتیم اور ہزاروں ماؤں بہنوں کو بیوہ کر دیا۔ امریکا نے افغانستان پر اتنا بارود برسایا کہ بلوں میں چھپے کیڑے مکوڑے بھی اس کے اثرات سے بچ نہ پائے۔ اسی امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل نے فلسطین کے ایک ایک بچے کو جیسے اپاہچ کرنے کے ساتھ ساتھ، بموں اور میزائلوں کی برسات کر کے فلسطین سے مسلمانوں کے خاتمے کی کوشش تو کی سو کی ساتھ ہی قبلہ اول کو گرانے کی بھی ناکام اور نامراد کوششیں کیں۔

اسی طرح سے برصغیر کی ایک اور مسلم دشمن طاقت پچھلے ستر سال سے کشمیر میں ہزاروں اور لاکھوں یتیموں اور بیواوؤں کی ایک فوج تیار کررہی ہے۔ ایسے نہ جانے کتنے ہیں جن کو حبس بے جا میں قید کر کے دنیا کے سامنے سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپنا بند نہیں کیا، اسی طرح سے برما میں مسلمانوں کو جانوروں کی طرح کاٹا گیا جو زندہ بچے، ان مسلمانوں کو ملک بدر کر دیا گیا جو آج جموں اور بنگلا دیش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اس سارے ظلم و ستم کے باوجود دنیائے اسلام نیخاموش تماشائی کی طرح اس سارے قتل عام کا نظارہ ہی نہیں کیا بلکہ ان میں سے چند نام نہاد مسلم حکمران ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان قاتلوں اور ظالموں کا ساتھ بھی دیا۔
اسی ظلم و ستم کے درمیاں، ایک اور مظلوم ملک شام کی دل کو دہلانے والی تصویریں منظر عام پر آئیں۔ جن کو دیکھ کر روح کانپتی اور جسم تڑپ اُٹھتا ہے۔ شان دار اور خوب صورت عمارتوں پر بشار الاسد حکومت اور روسی طیاروں کے ذریعے سے مظلوم شامی بچوں، نوجوانوں، عورتوں اور بزرگوں پر ظلم و ستم کی نئی داستان رقم کرنے پر مصروف عمل ہے۔ اسدی فوج اور روسی طیارے بم گراتے نہیں دیکھتے کہ اِن طیاروں اور بموں کی زد میں شیعہ بچہ آ رہا ہے یا سُنی، بلکہ وہ وہاں انسانیت کو ختم کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ بشار الاسد نے تو درندوں کو بھی مات دے ڈالی ہے۔ حلب، حماس اور دیگر بڑے شہر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے ہیں اور اب غوطہ پر بموں اور بارود کی برسات کی جا رہی ہے۔ بشار الاسد اپنی راج دھانی قائم رکھنے کی شیطانی ہوس کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

بی بی سی کی رپورٹوں کے مطابق غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں۔ بلکہ یہ کہیں چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں،حالاں کہ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں جس کا فائدہ شامی حکومت کو بھی ہوا ہے۔ علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش السلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔ فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔ ان چھوٹے سے باغی گروہوں سے اسد حکومت کو اتنا خوف ہے کہ اس نے غوطہ میں خون کے دریا بہا دیے ہیں۔ بچوں کی لاشوں کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے کلیاں مسلی گئی ہوں۔ اس سارے ظلم و ستم کے بعد بھی دنیا کے مسلمان اور وہ ممالک جو خود کو تہذیب و تمدن، آزادء نسواں، برابری، جمہوریت اور امن کے دعوے دار سمجھتے ہیں، ٹس سے مس نہیں ہو?۔ جب اسلامی ممالک کا حال ایسا ہو تو ہم غیروں سے کیسے گلہ کر سکتے ہیں؟ حالاں کہ نبئی مہربانؐ نے فرمایا ہے کہ:
”مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے“۔ یعنی آنکھ کو تکلیف ہو سارا جسم اسے
محسوس کرتا ہے اور اگر پاؤں کو درد ہو تو جسم کے سارے اعضا اسے محسوس کرتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ:
”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس لیے کوئی مسلمان نہ اپنے دوسرے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے ظلم کرنے کے لیے کسی دوسرے کے
حوالے کرتا ہے“۔ اگر آج ہمارا ایک عضو شام میں زخمی ہو رہا ہے،تو ہماری آنکھ فلسطین میں پھوڑ دی گئی ہے۔ ہمارے پاؤں برما میں کاٹ دیے گئے ہیں اور نہ جانے ہمارا کون کون سا عضو زخمی ہے۔

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَکُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُ?مْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَاِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا (16)

کہہ دو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اس وقت سوائے تھوڑے دنوں کے نفع نہیں اٹھاؤ گے۔
سورہ احزاب (16)
ہم سب کا ایمان ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے، اللہ رب العزت کے حکم سے ہوتا ہے۔ تمام انسانوں کے دل اللہ کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ مشکل حالات اس امت کی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہیں۔ کیا اس وقت کے حالات ۶۵۶ھ کے خلافتِ عباسیہ اور بغداد کے حالات سے زیادہ سخت اورمایوس کن ہیں جن کو پیشِ نظر رکھ کر شیخ سعدی جیسے ذہین شخص نے یہ شعر کہا تھا کہ

آسماں را حق بُود گر خوں ببارد بر زمین

بر زوالِ مُلکِ مستعصم امیر المومنین

دوسرے یہ کہ افراد کے ساتھ جماعتوں، اداروں اور تنظیموں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ موجودہ حالات میں خواہ وہ کسی بھی ملک کے ہوں، ہماری اجتماعیت وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اس سلسلے میں یہ امید یا مطالبہ تو زیادہ ہی سادگی کے مترادف ہوگا کہ ہم اپنے تمام تر اختلافات بھلاکر ایک ہوجائیں اور اپنی اپنی علیحدہ شناخت ختم کردیں۔ ظاہر ہے یہ بات عملاً ناممکن ہے، البتہ دوباتیں بالکل عملی ہیں اور اجتماعی معاملات میں اگر ہم نے اپنے آپ کو ان دو باتوں پر بھی آمادہ نہ کیا تو پھر ہمارا اختلاف ہماری تباہی کا سبب ہوگا اور ہم پر کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا۔

پہلی بات تو یہ کہ جن معاملات کا تعلق پوری ملت یا امت سے ہو، اُن میں کسی بھی طرح متحدہ موقف اپنایاجائے خواہ اُس کے لیے کوئی قربانی ہی دینی پڑے اور اس کے لیے عمومی ذہن سازی پر بھی محنت کی جائے۔

دوسری بات یہ کہ اختلاف کی بنیاد ذاتی مفاد پر نہ ہو اور کسی صحیح بات کو محض اس لیے رد نہ کردیا جائے کہ وہ دوسرے طبقہ کی جانب سے آئی ہے اور کسی غلط بات کی تائید محض اس لیے نہ کی جائے کہ وہ ہمارے حلقہ کی ہے، بلکہ شریعت وسنت اور ملت کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر رائے قائم کی جائے۔

عام طور پر جب لوگ اختلاف کے نقصانات پر غور کرتے ہیں تو وہ سرے سے اختلافات ختم کرنے کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں، جب کہ یہ غیرفطری بات ہے اور اسی لیے بارآور نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ہم یہ سلیقہ پیدا کریں کہ اپنے اختلاف یا علیحدہ وجود کو باقی رکھتے ہوئے بھی مشترکہ معاملات میں اتحاد کرلیا کریں تو یقینا حالات بدلنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

جس دن یہ دونوں باتیں یعنی اپنی ذاتی اصلاح کی فکر اور اجتماعی معاملات میں اتحاد کی فکر، ہمارے مزاج کا حصہ بن جائیں گی اسی دن سے وہ عمل حقیقی معنوں میں شروع ہوگا جسے دعوت کہتے ہیں اور اسی معیار پر ہوگا جس معیار پر اسے ہونا چاہیے، ورنہ ہم جیسے مسلمانوں سے تو کارِ دعوت انجام پانا مشکل ہے، البتہ آج کل کے حالات سے جس درجہ فکر اور اندیشوں کا ماحول بنا ہوا ہے، اسے دیکھ کر یہ امید دل میں جاگتی ہے کہ شاید اب ہم حالات بدلنے کی ان صحیح بنیادوں کو اپنانے کی سنجیدہ فکر تک بھی پہنچ جائیں گے، ان شاء اللہ۔ مظلوم مسلمان فلسطین کے ہوں یا شام کے، مظلوموں کی مدد کے لیے ہمیں آگے آنا چاہیے اور ہمیں بھی ہر رنگ میں دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو وہ وقت دور نہیں کہ جب ہمیں بھی ان ہی کی طرح مدد کے لیے پکارنا پڑے گا۔ لیکن اس وقت ہماری مدد کو کوئی نہیں آئے گا۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں