ہارون آباد (عوامی پریس کلب ) اسسٹنٹ کمشنر کے ناروا سلوک اور بلاوجہ جرمانوں کے خلاف کھاد ڈیلرز سراپا احتجاج بن گئے، دوکانیں بند کرکے ہڑتال کردی،ہڑتال کے باعث کسانوں کو کھاد کے حصول میں مشکلات کا سامنا، ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہڑتال کا دورانیہ غیر معینہ مدت کے لئے بڑھا دیا جائیگا۔
کھاد ڈیلرز یونین، تفصیلات کے مطابق ہارون آباد کے اسسٹنٹ کمشنر فضل الرحمن بلوچ نے دن کے اوقات میں کھاد کے بھرے ٹرالے شہر میں داخل ہونے اور دوکانوں و گوداموں میں کھاد اتارنے کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے کھاد ڈیلروں کو جرمانے کرتے ہوئے چند دوکانیں بھی سیل کردیں، جس پر کھاد ڈیلرز یونین ہارون آباد نے احتجاجاً اپنی دوکانیں بند کر دیں اور مکمل طور پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کردی۔
اس موقع پر کھاد ڈیلرز یونین ہارون آباد کی جانب سے اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کھاد ڈیلرز یونین کے صدر چوہدری محمد منیر،جنرل سیکرٹری یاسر فاروق، چوہدری محمد افتخار، عبدالستار، قمر عباس، راؤ محمد جاوید سمیت دیگر کھاد ڈیلرز شریک ہوئے، اجلاس میں بتایا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر و انتظامیہ کی جانب سے دن کے اوقات میں کھاد کے ٹرالوں پر پابندی بلاجواز ہے کیونکہ رات کے اوقات میں ہمیں لیبر دستیاب نہیں اور سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ پابندی ختم کی جائے وگرنہ ہماری ہڑتال کا دورانیہ غیر معینہ مدت کیلئے بڑھ جائیگا، دوسری جانب ہڑتال کے باعث کسانوں کو کھاد کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس سے گندم کی کاشت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔








