ہارون آباد (عوامی پریس کلب ) ہارون آباداور گردونواح میں ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت دھڑلے سے جاری ہے، عوام الناس طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے،شہریوں نے اعلیٰ حکام سے ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کو فی الفور روکنے کی اپیل کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہارون آباداور گردونواح میں ملاوٹ شدہ دودھ فروخت ہو رہا ہے ناقص دودھ پینے کے باعث معصوم بچے پیٹ کے مہلک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ناقص ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کرنے والے دودھی حضرات اور دوکانداروں کے خلاف حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی دودھ کی دوکانوں پر پاؤڈر اور کیمیکل ملا کر دودھ فروخت کیا جارہا ہے ۔
شہریوں کے مطابق دودھ کو گرم کرنے کے بعد دودھ میں چکنائی تیل کی طرح سامنے واضح نظر آنے لگتی ہے ملائی جمنے کی بجائے سوکھے پاؤڈر کے پیس بن جاتے ہیں بچے صحت مند ہونے کی بجائے پیٹ کی مہلک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں شہریوں نے تحصیل انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں کھانے پینے کی اشیاء بغیر چیک اینڈ بیلنس کے فروخت ہو رہی ہیں ۔
جبکہ ہوٹلوں پر غیر معیاری آئل کیچپ بیکری و ہوٹلوں میں تیار ہونے والا کھانا حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا اور محکمہ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی نا ہونے کے برابر ہے دودھ میں بڑے پیمانے پر ملاوٹ کا مکروہ دھندہ شروع ہو چکا ہے جس کے باعث بچے مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب،ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی،محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ حکام سے ہارون آباد شہر میں عملی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔







