225

نئی سبزی منڈی کی منظوری کے خلاف آڑھتیوں کا احتجاج بلاجواز ہے

ہارون آباد (عوامی پریس کلب ) ہارون آباد نئی سبزی منڈی کی منظوری کے خلاف آڑھتیوں کا احتجاج بلاجواز ہے، مارکیٹ کمیٹی کام کسان اور تاجر برادری کو تحفظ فراہم کرنا، منڈی کے قیام سے علاقہ کی معیشت میں بہتری آئے گی اور یہ پہلی سبزی منڈی ہوگی جو پامرا ایکٹ کے تحت قیام میں آئیگی جس سے کسانوں کو اپنی اجناس کی بہترین قیمت ملے گی۔

ان خیالات کا اظہارملک خالد فاروق اعوان ایڈووکیٹ چیئرمین دفتر مارکیٹ کمیٹی ہارون آباد نے اپنے آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا، انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ راتوں رات سے شروع نہیں ہوا بلکہ 2005 میں اس حوالہ سے باقاعدہ طور پر ایک تحریری درخواست دی گئی تھی جس پر مختلف اخبارات میں اشتہارات بھی دیئے گئے تھے، 2019 میں سبزی منڈی کے تاجربرادری کی جانب سے مزید درخواست گزاری گئی کہ پرانی سبزی منڈی کی جگہ بہت کم ہے ہمیں اپنی اجناس ہائی وے روڈ پر رکھ کر فروخت کرنا پڑتی ہے جس کے باعث روڈ بلاک ہوجا تا ہے اور دونوں اطراف ٹریفک بلاک ہوجاتی ہے۔

پرائیویٹ طور پر بننے والی منڈیوں سے دفتر مارکیٹ کمیٹی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اس لئے میں نے اپنے ادارے اور کسا ن و تاجربرادری کا فائدہ دیکھتے ہوئے پبلک سیکٹر کے تحت نئی سبزی منڈی کے وجود کو ترجیح دی، جس پر پرانی سبزی منڈی کے آڑھتیوں کا احتجاج بلاجواز ہے1998 میں پرانی سبزی منڈی شہر باہر منتقل ہوئی تھی جہاں اب ہے، نئی سبزی منڈی کے قیام سے پرانی سبزی منڈی وہاں منتقل ہوجائیگی اور تاجروں کو رعایتی نرخ پر دوکانیں دی جائیں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ میں یا کوئی اور مال بنانے کے چکر میں ہیں اگر ایسا ہوتا تو پرائیویٹ سیکٹر میں منڈی بنانے کو ترجیح دیتا اس لئے میں اپنے علاقہ کے کسانوں اور تاجروں کا فائدہ دیکھتے ہوئے پبلک سیکٹر کے تحت قانونی طور پر ایک نئی سبزی منڈی کے قیام کی منظور ی کروائی ہے جو صرف پونے تین کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں