618

بےروزگاری

تحریر: ہانیہ ارمیا

ابے رک،،،،،،،،،،،

حمزہ ہوٹل سے تھکا ہارا واپس گھر جا رہا تھا۔ کہ اْس کے سامنے تین نوجوان منہ ڈھانپے آ کھڑے ہوۓ۔ سنسان سڑک, رات کا وقت, وہ خاموشی سے سائیکل سے اتر گیا۔

جو بھی تیرے پاس ہے دے ، ورنہ یہ چاقو دیکھ رہا ہےناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حمزہ نے جیب سے بٹنوں والا موبائل , پرس سے 170 روپے, اور کاندھے سے بیگ جس میں چاولوں کے تین ڈبے تھے سب دے دیا۔

انھوں نے افراتفری سے دیکھا۔ اور دیکھنے کے بعد ایک نرمی سے بولا: چاولوں کے ڈبے ہمیں دے اور جا، یار ہم بھی تیرے جیسے غریب مگر بےروزگاری کے مارے ہیں اصلی چور نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں