561

ہارون آباد کی تا ریخ

مصنف غریب اللہ غازی
ہارون آباد کے ماضی کو بڑی دور تک دیکھا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ یہ خطہ بھی عظیم صحرائے چولستان کا حصہ تھا۔ریاست بہاولپور جو لق و دوق صحرا پر مشتمل تھی اس میں ہزاروں ٹوبے موجود تھے۔پانی کے ذخیرہ ہونے والی جگہ(ٹوبے) کے ارد گرد لوگ قیام پزیرہوتے تھے۔چولستان کے ہزار ٹوبوں میں ایک ٹوبہ بدرو والا بھی تھا۔جہاں جو ئیہ برادری کی سب کاسٹ بدرو کے افراد رہتے تھے۔بدرو قوم کی وجہ سے اسے بدرو والا ٹبہ کہا جاتا تھا۔بدرو والا ٹبہ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی چو لستان کی۔چو لستان میں آباد کاری کے وقت ٹوبوں کی کھدائی ہوتی تھی ضرورت کے تحت ٹوبوں کی کھدائی کر کے اس میں اضافہ کیا جاتا رہا۔بدرو والاٹوبا چک 48/3R میں تھا۔
آخری حکمران نواب سر صادق پنجم نے اپنی ریاست کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا اور ریاست کے وسیع علاقے کی آبادکاری کے لیے نہری نظام کے اجراء کا منصوبہ بنایا۔1921میں ستلج ویلی پراجیکٹ پروگرام بنایا گیا۔ اس پروجیکٹ کے لیے کروڑوں روپے کی رقم کے حصول کے لیے ممتاز ماہر قانون محمد علی جناح کی خدمات حاصل کی گئی۔ اور حکومت برطانیہ سے رقم کے حصول کے بعددریائے ستلج پر تین مقامات سلیمانکی، اسلام اور پجند کے مقام پر ہیڈ ورکس بنانے کا آغاز ہوا۔تینوں ہیڈ ورکس حکومت بر طانیہ اور ریاست بہاولپور کے اشتراک سے دس سال کے عرصے میں مکمل ہوئے۔ہیڈ ورکس اسلام سے ضلع بہاولپور، ہیڈ ورکس سلیمانکی سے ضلع بہاولنگر اورہیڈورکس پجندسے ضلع رحیم یار خاں کے علاقہ سیراب ہو رہا۔
نہری نظام کے اجراء کے بعدچک بندی اور مربع بندی کی گئی۔چکوک کے نام رکھے گئے۔نہر 1/R سے چک نمر1 کا آغاز کیا گیا۔چک نمبر 340/H-R تک گا ؤں بنائے گئے۔علاقہ کی آبادکاری کے لیے پنجاب کے شہروں سے کاشتکاروں کو بلایا گیا۔لائل پور، سیالکوٹ،جالندھر،امرتسر،گوجرانوالہ اور پنجاب کے دوسرے شہروں سے لوگ آباد کاری کے لیے پہنچے۔
آباد کاروں نے زمین کو آباد کر کے فصلیں کاشت کیں اور زرعی پیداوار ہونے لگیں تو غلہ منڈیوں کے قیام کی ضرورت پیش آئی۔1927 میں فورٹ عباس کو تحصیل کادرجہ دیا گیا تو بدرو والا کو ہارون آباد کا نام دیکر فورٹ عباس میں شامل کیا گیا۔فورٹ عباس اور ہارون آباد میں بیک وقت1927 کو غلہ منڈیوں کا قیام عمل میں آیا۔بعض شہروں میں خود ولی ریاست نواب صادق محمد پنجم نے موقع پر پہینج کر غلہ منڈیوں کا افتتاح اپنے دست مبارک سے کیا۔ہارون آباد میں 1930میں غلہ منڈی میں دوکانوں کی تعمیر شروع ہوئی۔1960میں تمام دوکانیں اور بازار تعمیر ہو چکے تھے۔

ہارون آباد کی وجہ تسمیہ
ریاست بہاولپور کے آخری حکمران نواب سرصادق محمد خان پنجم عباسی نے ہارون آباد کا نام بڑے غورو خوض اور سوچ بچار کے بعداپنے بیٹے ہارون الرشید کے نام پر ہارون آبا د تجویز کیا۔اس نام سے ولی ریاست کا حسن تدبر نمایاں ہے۔یہ ایک جامع اور مکمل نام ہے۔یہ نام انتہائی خوبصورت لذت و سرور سے بھرپور ہے۔اس نام میں ریاست بہاول پور کی تاریخ مضمر ہے۔یہ نام اردو کے دو آسان الفاظ کا حسین امتزاج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں