261

پنجاب حکومت بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔۔۔۔۔

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) ہارون آباد چیرمین یونین کونسل 96 میاں محمد اشرف جتالہ ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے بلدیاتی اداروں کی بحالی کے تفصیلی تاریخی فیصلے پر اظہارِ تشکر و مسرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں واضح طور پر پنجاب حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو فوری بحال کر کے مدت پوری کرنے کی ہدایت کی ہے،پنجاب حکومت کے بلدیاتی نظام کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ سے صاف ظاہر ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے اور عوام سمیت پنجاب کے 58 ہزار بلدیاتی منتخب نمائندوں کی سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ سپریم کورٹ پنجاب حکومت کے لیت و لعل کے تناظر میں سوموٹو لیکر فوری بحالی کے فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنا کر عوامی مینڈیٹ کے مطابق بنیادی سطح پر منتخب قیادت کو اعتماد کے ساتھ اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی عملی پوزیشن پر لانے کا اہتمام فرمائے۔

سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات منعقد کرائے اور بلدیاتی اداروں کی بحالی بھی سپریم کورٹ نے کی اور سپریم کورٹ ہی بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کا اہتمام کر سکتی ہے، سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں واضح کیا ہے کہ عوام کو ان کے منتخب نمائندوں سے دور نہیں کیا جاسکتا ہے،اور یہ کہ صرف صوبائی حکومت کی خواہش پر بلدیاتی ادارے تحلیل نہیں کیے جاسکتے. اس فیصلہ کے باوجود پنجاب حکومت کا ارادہ اور عمل بلدیاتی اداروں کے حوالے سے مکمل نظر انداز کر نے اور اس فیصلے سے پہلو تہی کرنے کا دکھائی دے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ ہی اس تاریخی فیصلہ کو اس کی روح کے مطابق نافذ کروا سکتی ہے. پنجاب حکومت تو منتخب نمائندوں کو عوام سے دور کرنے پر بھی تلی ہوئی ہے اور پنجاب حکومت کی خواہش بھی یہی ہے کہ بلدیاتی ادارے کسی نہ کسی طریقے سے غیر موثر اور تحلیل یا معطل رہیں،اس ساری صورتحال کے پیش نظر پنجاب کے بارہ کروڑ عوام اور ان کے 58ہزار منتخب بلدیاتی نمایندے سپریم کورٹ کے سوموٹو کے شدت سے انتظار کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کو عملی طور پر لاگو کرنے اور اختیارات کے ساتھ اپنی آئینی مدت سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پوری کرنے کا موقع مل سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں