ہارون آباد(عوامی پریس کلب) تاریخی اور قدیم قبرستان کے عقبی جانب چار دیواری نہ ہونے کی وجہ کتوں سمیت مختلف جانوروں کے بہ آسانی داخل ہونے کے باعث قبروں کی بیحرمتی کا افسوس ناک سلسلہ انتہا کو پہنچ چکا ہے اور ان جانوروں کے آزادانہ داخلے اور آوارہ گردی سے قبرستان میں اپنے پیاروں کی آخری آرام گاہ آنے والوں بلخصوص خواتین اور بچوں کو شدید پریشانی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آوارہ کتوں کی وجہ سے قبرستان میں خوف کے ساتھ ساتھ ان کی گندگی بھی قبرستان کی پاکیزگی اور تقدس کو پامال کرنے کی وجہ بنی ہوئی ہے. اس کے علاوہ قبرستان میں نشئی بھی مختلف اوقات میں بہ آسانی ڈیرہ جمائے نشہ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور نشؤں کی کثیر تعداد قبرستان میں مخیر حضرات کی جانب سے لگائے گئے پانی کے نلکوں کے ہینڈل چوری کیے جانے کی شکایات بھی معمول بن چکی ہیں۔
محکمہ اوقاف قبرستان کے مزار اور دکانوں سے اچھی خاصی رقم وصول کر رہا ہے لیکن قبرستان کی چار دیواری سمیت حفاظتی انتظامات میں قطعی دلچسپی نہیں ہے. قبرستان کی چاردیواری تعمیر کرنا اور صفائی کے انتظامات سمیت چوکیداروں کی تعیناتی ناگزیر ہو چکی ہے اور محکمہ اوقاف کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قبرستان کے تقدس کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکے.







