220

شہر کو باضابطہ طور پر سٹریٹ لائٹس سے محروم کر دیا گیا ، سورج ڈھلتے ہی شہر کیسڑکیں اور آبادیاں تاریکی میں ڈوبی دکھائی دیتی ہیں۔

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) ہارون آباد سٹریٹ لائٹس کے لحاظ سے ایک مثالی اور عظیم الشان شہر کے مقام کا حامل قرار دیا جاتا تھا اور عوام اس کو روشنیوں کے شہر کے نام سے بھی پکارنا شروع ہو گئے تھے لیکن چند سال پہلے اس شہر کی روشنیوں کو نظر لگ گئی اور یہ شہر باضابطہ طور پر سٹریٹ لائٹس سے محروم کر دیا گیا اور اب بھی بھی سٹریٹ لائٹس کا باقاعدہ اور منظم نظام نہ ہونے کی وجہ سے سورج ڈھلتے ہی شہر کی زیادہ تر سڑکیں اور آبادیاں تاریکی کے باعث انتہائی تکلیف دہ صورت حال میں ڈوبی دکھائی دیتی ہیں اور روشنیوں کی بجائے اب اس شہر کو تاریکیوں کا نگر باامر مجبوری کہنا پڑتا ہے.

بلدیاتی نظام کے عدم تسلسل نے اس شہر کی روشنیوں کو تاریکی میں بدل دیا ہے اور گھپ اندھیرے اس کا مقدر بن کر رہ گئے ہیں بلاشبہ اہل علاقہ کے لیے یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا تاہم اب انہیں عملی طور پر اس اندھیرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے خواتین،بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں اللہ دتہ،محمد رمضان،بلال احمد،غلام رضا،ملک ارشد،غلام نبی،محمد افضل،محمد سفیان و دیگر نے کہا ہے کہ ان کے شہر ہارون آباد میں سٹریٹ لائٹس کا منصوبہ متعارف کرایا جائے اور اس شہر کی روشنیاں بحال کر کے دوبارہ اس کو روایتی رنگ و روشنی کا حامل شہر بنا کر اہل علاقہ کے لیے بنیادی حقوق کی فراہمی کا دیرینہ ایشو حل کیا جائے تو یہ پہلو ہمیشہ سراہا جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں