ہارون آباد (عوامی پریس کلب) صرف پیٹرول گیس ہی نہیں سبزی کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے عام آدمی پریشان ہے گھر کا چولہا جلانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا آئے روز اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری انتہائی پریشان ہے مہنگائی کے ساتھ ناجائز منافع خوروں نے بھی انتہا کررکھی ہے خودساختہ نرخ کے زریعے منافع خور عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں ۔
ان خیالات کا اظہارشہریوں اے ڈی چوہدری،شہزاد احمد،اعجاز ممنوکا،محمد اعظم،محمد اسلم،کاظم علی نے مہنگائی کے حوالے سے کیے گئے کے سروے میں کیا۔انہوں نے کہا کہ کچے، پکے چھلکے، میٹھے اور نمکین آلووں کی تقسیم کرتے ہوئے قیمت 50 سے 80 روپے مقرر کررکھی ہے پیاز سرخ اور دیسی کی درجہ بندی کرتے ہوئے 40 سے 50 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے ٹماٹر 70 روپے سبز مرچ دیسی 120 روپے میں دستیاب ہے لہسن 280 سے نیچے دستیاب نہیں ہے ادرک کے نرخ 320 روپے کلو سے کم نہیں سبزی اور فروٹ فروشوں کی جانب سیخود ساختہ درجہ بندی کرتے ہوئے من مرضی کی قیمت وصول کی جارہی ہے۔
سبزی کی قیمت عام آدمی کی قوت خعید سے تجاوز کرتی دیکھائی دے رہی ہے مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے لیے قائم پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں کی فوج ظفر موج کاغذی کاروائی کا پیٹ بھرنے کے لیے مخصوص ایام میں بھاری جرمانوں کا ڈنڈا چلاتی دیکھائی دیتی ہے جن کا شکار بھی چھوٹے دوکاندار ہوتے ہیّں جبکہ منافع خور مافیا انکی قلم سے آزاد ہی رہتا ہے حکومت کو چاہیے وہ مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے موثر و عملی اقدامات کرے۔








