240

بنوں سانحہ نے پاکستان کی سالمیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔امیر جماعت اسلامی

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) ضلعی امیر ولید ناصر چوہدری نے عرفان اللہ چوہدری امیر جماعت اسلامی تحصیل ہارون آبادعامر یعقوب صدر جماعت اسلامی یوتھ،عابد سرور چوہدری امیر جماعت اسلامی سٹی ہارون آبادکے ہمراہ عوام پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنوں سانحہ نے پاکستان کی سالمیت پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے ادارے اور عوام دونوں سے مل کر پاکستان بنتا ہے پاکستان کے ائین کا احترام اور ضابطے میں رہنے سے پاکستان میں امن ہو سکتا ہے ۔

جماعت اسلامی غیر ائینی واقعات کی مذمت کرتی ہے جماعت اسلامی نے پاکستانی عوام کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے یہ مقدمہ مظلوم کا ظالم کے خلاف ہے ملک عزیز کے اندر بڑھتی ہوئی طبقاتی کشمکش میں ایک واضح خلیج پیدا کر دی ہے امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کا اداروں اور ائین سیاعتماد اٹھ رہا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے اس سے پاکستانی قوم انتشار میں مبتلا ہوگی .

جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی قیادت میں ائین کے اندر رہتے ہوئے اصولی جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس وقت عوام کا بنیادی مسئلہ مہنگائی ہے بجلی کے بلز اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے نے عام انسان کی زندگی اجیرن کر دی ہے لوگ خودکشیوں پر اتر ائے ہیں لیکن حکومت صرف اپنے نمبر پورے کرنے کے چکروں میں ہے امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم حافظ نعیم الرحمن کی کال پر جماعت اسلامی ضلع بہاول نگر سے سینکڑوں افراد 26 جولائی کو اسلام اباد کا رخ کریں گے ڈی چوک میں پرامن مظاہرہ کیا جائے گا اور بجلی کے ریٹ کم کرنے پر دباؤ ڈالا جائے گا.

جماعت اسلامی ضلع بہاول نگر اس سے قبل چار نکاتی پروگرام کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنا کر جدوجہد کر رہی ہے ضلع بہاول نگر کے عوام اس وقت شدید تکلیف میں ہے عام ادمی کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے زری مقاصد کے لیے نہروں میں پانی کی قلت ہے ضلع بہاول نگر میں کوئی ایسے موثر تعلیمی ادارے نہیں ہیں جہاں پر بچوں کو تعلیم دلوائی جا سکے اسی طریقے سے صحت کی سہولتیں ناپید ہیں ایئر ایمبولنس ایک سیاسی تماشہ ہے یہ غریبوں کو کوئی مدد فراہم نہیں کر سکے گا اس سے بہتر ہے کہ یہاں پر ایک مقامی بڑا ہسپتال بنایا جائے جس میں دل جگر اور کینسر جیسے موزی امراض کا علاج ممکن ہو سکے .

ہمارا چوتھا مطالبہ ضلع میں موجود انفراسٹرکچر کی بحالی ہے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ریلوے کی باقیات بھی اٹھا کر لے گئے ہیں جس کا مستقبل میں کوئی چانس نظر نہیں ارہا حالانکہ امروکہ سے اگے 25 کلومیٹر لائن بچھانے سے ہمارا رابطہ لاہور کراچی اسلام اباد مکمل ہو جانا تھا موٹروے لنک ابھی کاغذوں میں دفن ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ جماعت اسلامی کے چار نکاتی بنیادی مسائل کے اوپر توجہ دی جائے بصورت دیگر ماضی کی طرح ہم سڑکوں پر اپنے مطالبات کے حق کے لیے نکلیں گے .

اسی طریقے سے ہارون اباد شہر میں بے شمار مسائل ہیں نادرہ دفتر میں مزید ڈیسک قائم کیے جائیں تاکہ عوام کا رش نہ ہو پورے شہر ہارون اباد میں سیوریج بدحالی کا شکار ہے پانی لوگوں کے گھروں کے اندر داخل ہو رہا ہے سڑکوں میں جوہر بن چکے ہیں جو کہ مستقبل میں ملیریا اور ڈینگی جیسے مسائل پیدا ہونے کا بھرپور اندیشہ ہے حادثات سے بچاؤ کے لیے ہارون اباد کا بائی پاس بنایا جائے امن و امان کی صورتحال کو بہتر کیا جائے پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے بہت ضروری ہے کہ اس وقت پینے کے پانی اور سیوریج کہ منصوبے کو از سر نو مکمل کیا جائے ماسٹر پلان بنایا جائے تاکہ عام شہریوں کی زندگی اسان ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں