200

لمپی سکن کی بیماری سے ہلاک ہونے والے جانوروں کی لاشوں کی تلفی کے لیے کوئی مناسب اقدام کیا جائے۔

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) لمپی سکن کی بیماری سے ہلاک ہونے والے جانوروں کی لاشوں کی تلفی کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے قریبی آبادیوں میں ہی پھینک دینے کا رحجان مزید مویشیوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ کا باعث بھی بن سکتا ہے اور اس کے علاوہ عام لوگوں کے لیئے بدبو اور تعفن بھی تکلیف دہ صورت حال کو جنم دے رہا ہے۔

لمپی سکن کی بیماری نے گزشتہ کافی عرصہ سے ملک کے دیگر علاقوں کے طرح ہارون آباد اور گردونواح میں جانوروں کے لیے موذی مرض کا روپ دھار رکھا ہے جس سے کافی تعداد میں جانور موت کے منہ میں جا چکے ہیں اور اب بھی یہ بیماری جاری ہے۔

اس بیماری کا سب سے بڑا ایشو یہ سامنے آیا ہے کہ اس سے مرنے والے جانوروں کی لاشیں ٹھکانے لگانے کی کوئی پالیسی یا طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا ہے اور اس بیماری کا شکار جانور کی موت کے بعد لاش کو قریبی آبادیوں میں پھینک دیا جاتا ہے جو عوام کے لئے بہت مسئلہ بن رہا ہے اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو بھی بڑھا رہا ہے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں پالیسی متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں