ہارون آباد (عوامی پریس کلب ) ہارون آباد وگردونواح میں قائم جعلی دودھ بنانے والی فیکٹریوں (چلر) کی بھر مار،شہریوں میں موت بانٹنے کا کام عروج پر پہنچ گیا۔جعلی دودھ کی تیاری میں یوریا کھاد،واشنگ پاؤڈراور دیگر زہر یلے کیمکلز کا بے دریغ استعمال کرنے کا انکشاف۔انتظامیہ حسب معمول خاموش تماشائی کا کردار اداء کر رہی ہیں۔عوامی وسماجی حلقوں کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق ہارون آباد میں جعلی دودھ بنانے والی درجنوں فیکٹریاں (چلر)قائم ہیں۔جو گوالا حضرات سے ناقص اور پانی کی ملاوٹ ولا دودھ خرید تے ہیں اور بعد ازاں اس دودھ میں یوریا کھاد واشنگ پاؤڈر،بال صفا پاؤڈراور دیگر زہر یلے کمیکلز کی ملاوٹ کر کے دودھ کی مقدار بڑھائی جاتی ہیں جو بعد ازاں شہر یوں میں فروخت کردیا جاتا ہے۔
ایسا دودھ د ینے والوں پر ان اجزاء کے اثرات مرتب ہونا فطری اور لازمی امر ہے اور صارف دھیرے دھیرے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کرموت کی اتھاہ گہرائیوں میں چلا جاتا ہے۔جعلی دودھ بنانے والی فیکٹریاں کمیکلز ملا انتہائی مضر صحت دودھ بنا کر فروخت کر رہی ہیں۔لیکن انکو روکنے والا کوئی نہیں ہے یہ سر عام موت شہریوں کو بانٹ رہی ہیں اور ستم ظر یفی یہ ہے کہ اس سلسلہ میں انتظامیہ بالکل خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور چلر مالکان سے ملکر شہریوں کو موت کے پروانے تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ عوامی وسماجی حلقوں نے ا علیٰ حکام سے اس بابت فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







