ھارون آباد(چوھدری طارق جمیل)تحصیل ھارون آباد کے دیہی علاقہ جات میں کسی ریٹ لسٹ پر عملدرآمد نہیں ہو رہا انتظامیہ بھی خاموش شہروں تک محدود چینی 115 روپے کلو دوکاندار بیچنے میں مصروف جبکہ دیگرکھانے پینے کی اشیا کے دام بھی منہ مانگے نہ کوئی ریٹ لسٹ نہ چیزوں کا معیار جبکہ 70فیصد آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے جو اپنی ضرورت زندگی کی اشیا وہیں دوکان داروں سے خریدتی ہے ۔
رمضان بازار کو شہروں تک محدود کر کے ستر فیصد آبادی کو حکومتی سبسڈی سے پہلے ہی محروم رکھا گیا ہے عوام کا تبدیلی سرکار سوال ہے کہ ایک کلو چینی کے لئیے روزہ کی حالت میں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہورہی ہے تیس پینتیس کلو میٹر سفر کرنا کیا عوامی مسائل کا یہی حل ہے نہ تو اختیارات کی تقسیم نچلی سطح پر تین سالوں میں ہوئی اور نہ ہی عوام کے فائدےکے لئیے بنائی گئی کسی بھی حکومتی پالیسی کا اثر اس ستر فیصد طبقہ تک پہنچا۔
تمام صوبائی اور وفاقی محکمہ. جات اور تحصیل اور ضلعی انتظامیہ شہروں میں تصویریں بنا کر سب او کے کی رپورٹ دیکر خود قانون شکنی کی مرتکب ہو رہی ہیں اسسٹنٹ کمشنر ھارون آباد سے گزارش ہے کہ دیہاتی علاقہ جات بھی اسی تحصیل کا حصہ ہیں یہاں حکومتی احکامات اور ریٹ لسٹ پر عملدرآمد کروانا آپکی اسی طرح ہی زمہ داری ہے جس طرح آپ دیہاتوں میں جا گندم کے زخیرہ اندوزوں کےخلاف کاروائیاں کرتے ہیں کیا دیہاتی علاقے حکومتی رٹ سے مستثنیٰ ہیں







