1,337

ادب اور تہذیب

تحریر: صفیہ عمران

اہل علم تصوف کے سفر پہ ہیں اور تصوف ادب ہے ادب سنگت سے ہوتا ہے ۔ ادب کا مختصر تعارف یہ ہے کہ انسان کے اندر انسان کے تخیل میں احساسات و جذبات کی جو موجیں برابر اٹھتی رہتی ہیں ان کو خوبصورت الفاظ کا جامہ پہنا دینا ادب ہے۔

اللہ رب العزت ہر انسان کو تہزیب یافتہ پیدا کرتے ہیں ۔اسے تہذیب و ادب کی صلاحیت دے کر دنیا میں بھیجتا ہے۔ لیکن جس انسان کو ادب کی صلاحیت کا ادراک ہو جاتا ہے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا وہ خود کو سنوارنے سے رہ جائے اپنی شخصیت کو ادبی سنگت کی صحبت سے نکھار نہ سکے۔ادب اور تہذیب کا آغاز اس وقت ہوا جب کائنات کی ” اعلیٰ و ارفَع ترین شخصیت ” نےجاہِل اور اِنتہائی بَداخلاق لوگوں کے روّیَے کا جواب اخلاق ، نرمی اور شفقت کا بہترین مُظاہرَہ سے کِیا تھا۔

ہمارے لئے ادب اور تہذیب کی بہترین اعلیٰ مثال آقا دو جہاں سرورکونین رحمت کی سیرت بابرکت سے بڑھ کر کوئی مثال نہیں ہے ” راہنمائی کرنے والے جب چاہیں جتنا شعور علم بہ اذن ربی لوگو میں منتقل کرتے ہیں تاکہ معاشرہ تہزیب یافتہ پرامن اور پرسکون رہے۔ بے ادب مسافر زیادہ کی طلب رکھتا ہے ۔ ہر وہ چیز جس کے استعمال کی کمی یا حد سے زیادہ زیادتی ہو مضر اثرات ہی مرتب کرتی ہے جب استعمال کی زیادتی ھو اور کسی بھی چیز کی زیادتی ڈی ٹریک کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔

اور اگر کچھ بھی ایسا غلط ہو تو ہونے سے پہلے سدباب ضرور کرنا چاہیے۔ یہ دیکھ لینا چاہیے کہ آگے چل کر اسکا نتیجہ کیا ہو گا ؟ ہر لزت کی بنیاد لالچ ہے اور ہر لالچ بخیل کرکے چھوڑتا ہے۔

شخصیت کی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے بخیل اور خود غرض ہونا کافی ہے ۔بخیل ایسا لالچی ہوتا ہے جغ خود پہ بھی خرچ نہیں کرتا وہ دوسروں کے لیے درجہ احسان تک لانے کے لیے کیوں بھلا خود کو مشقت میں ڈالے گا؟ اور درپشت کوئی بھی خوبی نما برائ بے ادبی میں شامل کرتی ہیں بے ادبی کا دوسرا بڑا نقصان محبت سے محروم ہونا ہے۔اہلِ محبت اہل ادب ہیں اور ادب پہلا قرینہ ہے محبّت کے قرینوں میں، راہنوانے محبت کو بے ادبی بد دل کرتی ہے ۔ لیکن صرف علم ادب سے عاجزی اور تہزیب پیدا کرتا ہے۔۔۔

ادب غیب کی داستان ایسا راز ہے جو عرش والوں پہ بھی کہاں کھلتا ہے لیکن عرش والوں کی صف میں با ادب ضرور لا کھڑا کرتا ہے ۔۔

ادب میں متحرک کرنے اور ہماری روح میں موجود خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کی غیر معمولی قوت ہوتی ہے جس سے شخصیت میں تہزیب آتی ہے ۔ ادب کے ذریعے ہم زندگی کا شعور حاصل کرتے ہیں۔ یہی ادب کا خاص “منصب” ہے۔ ادیب کون ہوتا ہے؟ ادیب صحافی نہیں ہوتا ، جو خبر کو نشر کرے ، نا وہ مؤرخ ہوتا ہے جو داخلی اور خارجی واقعات لکھے ۔

ادیب ایک ایسی”چشمِ ماہی” کی آنکھ ہے جو زندگی کے سمندر میں واقعات کو جزبات و احساسات کو محدب عدسہ نما “لینز” آنکھ ہے جو مشاہدے کی دور بین سے گہرائی میں اتر کر جوہر لاتی ہے ۔ ادیب کی بات سچ پہ مبنی مستند اس لیے ہوتی ہے کہ اس کے اندر کی واردات ہوتی ہے جو کسی شاہ مملکت نے نہیں لکھی ہوتی ۔ ادیب ایک ایسا انسان ہوتا ہےجس میں فہم و فراست ادراک کی صلاحیت اور اس کے اظہار کی قوت بھی زیادہ ہوتی ہے ۔

ادیب اس کے ادراک و اظہار میں اتنی داخلی اور خارجی وسعت ہوتی ہے کہ ادب انفرادی ، ذاتی ہوتے ہوئے بھی آفاقی رہتا ہے۔ جتنا بڑا ادیب ہو گا اس کے تجربے کی وسعت، اس کا شعور و ادراک اور اس کا اظہار اتنا ہی بڑا اور آفاقی ہو گا۔

ادب زندگی میں نئے معنی تلاش کرنے کا نام ہے اور اسی لیے ادب زندگی کے شعور کا نام ہے ہر باشعور تہزیب یافتہ ہے۔ اسی شعور کے ذریعے ہم بدلتے ہیں۔ ہم وہ نہیں رہتے جو ہوتے تھے اور اسی سے ہمارے اندر قوت عمل پیدا ہوتی ہے۔ زندگی کے ایسے تجربے جن سے ہمیں کبھی واسطہ نہیں پڑا، ادب کے ذریعے براہِ راست ہمارے تجربے بن جاتے ہیں اور ہمیں اور ہمارے اندازِ فکر کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ کہ ادب کے ذریعے ہم دوسروں کے تجربوں میں اس طرح شریک ہو جاتے ہیں کہ وہ ہمارے تجربے اور مشاہدے بن جاتے ہیں ۔

ادب علم کا ایک گیٹ وے ہے ، علم ادبی مشاہدے کی شاہراہ سے گذرتا ہے تو عمل کے قلعے پہ جا رکتا ہے ادب جھکتا ہوا زانوئے تلمذ سفر تہہ کرتا ہے ۔تو بے ادب کا سفر علم کے باوصف بلاوجہ کا تکبر اسے راندہ درگاھ ٹھراتا ہے ، اسی لئے کہتے ہیں باادب با مراد بے ادب بے مراد بے ۔ با ادب ادیب پیدائشی تہزیب یافتہ ہوتا ہے وہ ایسے علم سے متعارف ہوتا ہے جہاں پہ شخصیت نماادارے کی تربیت درکار ہوتی ہے ناں کہ وہ ڈگری یافتہ کہلانے کے لیے تعلیمی اداروں کا مہتاج ٹھہرے ۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ کبھی کبھی ڈگریاں فراست کے فیصلے نہیں بھی کرتی سوائے تربیت یافتہ ہونے کے۔

کسی نامعلوم شاعر نے خوب کہا ہے:

تہزیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ ،

تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں