374

صحافی برادری نے پیکا ایکٹ کالے قانون کو مسترد کر دیا

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) پاکستان فیڈر ل یونین آف جر نلسٹس کے صدر رانا عظیم کی کال پر ہارون آباد یونین آف جرنلسٹس کا پیکاایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،پریس کلب سے میونسپل کمیٹی تک ریلی بھی نکالی گئی،ریلی صدر ہارون آباد یونین آف جرنلسٹس یاسرچوہدری کی زیر صدارت نکالی گئی ریلی میں شریک شرکاء صحافیوں نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر پیکا ایکٹ نامنظور،کالا قانون نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔

ریلی میں شریک شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے صدر ہارون آباد یونین آف جرنلسٹس یاسر چوہدری نے کہا کہ ہم ٹرولنگ اور فیک نیوز کے خلاف ہیں لیکن پیکا ایکٹ نافذ کرکے یہ جو صحافت پر قدغن لگایا جارہا ہے یہ ہمیں کسی بھی صورت قبول نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے مرکزی صدر رانا محمد عظیم کی ہدایات کے مطابق آج یہ پُرامن احتجاج کیا گیا ہے اگر اس کالے قانون کو ختم نہ کیا گیا توقیادت کی جانب سے آئندہ جو بھی لائحہ عمل ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا چاہے وہ دھرنا ہو یا احتجاج ہو یا ریلی ہو۔

جنرل سیکرٹری عوامی پریس کلب سید ابراہیم بلا ل شاہ نے خطاب میں کہا کہ ہارون آباد یونین آف جرنلسٹس آج اپنے لیڈر رانا عظیم کی ہدایات پر پیکا ایکٹ کے خلاف نکلے ہیں ہم اس کالے قانون کو تسلیم نہیں کرتے ازادی اظہار رائے پر جو پابندی لگائی گئی ہے پیکا قانون نافذ کر کے اسکے خاتمے تک ہم احتجاج کرتے رہیں گے اور ہمارا یہ احتجاج جاری ہے گا۔سینئر صحافی نائب صدر عوامی پریس کلب ملک محمد ریاض خلجی نے کہا کہ پیکا ایکٹ جیسے قوانین صحافیوں کی زبان بند کر نے کے لئے لائے جا رہے ہیں ہم اس کالے قانون کے خلاف نکلے ہیں اور جب تک اس کالے قانون کو ختم نہیں کیا جائے گا ہم احتجاج کرتے رہیں گے کیونکہ ہم کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے پُرامن احتجاج کررہے ہیں اور صحافی برادری نے اس پیکا ایکٹ کالے قانون کا مسترد کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں