248

نئی سبزی منڈی کی منظوری کے خلاف تاجروں کا احتجاج

ہارون آباد (عوامی پریس کلب) ہارون آباد میں نئی سبزی منڈی کی منظوری کے خلاف تاجروں کا احتجاج، شہر سے دور نئی سبزی منڈی کا قیام پرانی سبزی منڈی کے تاجران، سبزی کے کاشتکاروں اور ریڑھی بانوں کا معاشی قتل عام ہے،یہ اقدام تمام تر انسانی، اخلاقی اور کاروباری اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

مظاہرین کا موقف، تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پرانی سبزی منڈی کے تاجروں نے نئی سبزی منڈی کی منظوری کے خلاف احتجاج کیا، اس موقع پرسبزی منڈی کے تاجر رہنماؤں حاجی شہاب الدین غوری، طارق محمود ملہی و دیگر کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجمان شوکت محمود بسرا نے ملی بھگت کے ذریعے راتوں رات نئی سبزی منڈی شہر سے کئی کلومیٹر دور منظور کرا کر پرانی سبزی منڈی کے تاجران، سبزی کے کاشتکاروں اور ریڑھی بانوں کا معاشی قتل عام کرنے کی کوشش کی ہے اور صرف آٹھ دن کے مختصر وقت میں سبزی منڈی کے تاجران اور کاشتکاروں کو اعتماد میں لیے بغیر صرف ذاتی مفادات کے لئے کیا گیا یہ اقدام تمام تر انسانی، اخلاقی اور کاروباری اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

سبزی کی کاشت کے ایریا 55فورآر، 71فور آر، 72فور آر اور اس سے ملحقہ چکوک ہیں اور نئی سبزی منڈی ان چکوک سے بہت طویل فاصلے پر ہوگی اور ہارون آباد شہر کے مقامی سبزی فروشوں کو بھی بہت طویل فاصلے تک جانا پڑے گا جس سے ان کی تکالیف، کرائے کی لاگت میں بہت بڑا اضافہ ہوگا جس سے سبزی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوجائے گا اور لوگوں میں پہلے ہی مہنگائی کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے اور جب اس فیصلے سے سبزی اور پھلوں کی قیمتیں بڑھیں گی تو عوام کو مزید تکلیف ہوگا لیکن حکومتی ترجمان کو اس کی پرواہ نہیں ہے اور وہ عوامی مسائل کے حل کی بجائے عوامی تکالیف بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں اور سبز منڈی کئی کلومیٹر دور منتقل کرنے کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں اور نئی سبز منڈی کی منظوری منسوخ کرنے کا مطالبہ شہریوں اور تاجران اور ریڑھی بانوں کی مشترکہ آواز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں